fbpx

اردو زبان میں کوڈ 19

محکمہ صحت اور ڈنمارک کی حکومت کو کوڈ 19 کے بارے میں تازہ ترین خبریں حاصل کریں

اردو زبان میں کوڈ 19

محکمہ صحت اور ڈنمارک کی حکومت کو کوڈ 19 کے بارے میں تازہ ترین خبریں حاصل کریں

RSS
ATOM


اب آپ کرونا ٹیسٹ کروا سکتے ہیں، خواہ آپ میں علامات نہ بھی ہوں

اب کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے کے لیے آپ کو اپنے مستقل ڈاکٹر سے حوالہ لینا ضروری نہیں ہے. ڈنمارک میں بسنے والا ہر بالغ شہری اس ویب سائٹ پر جا کر خود ہی ٹیسٹ کے لیے وقت حاصل کر سکتا ہے www.coronaprover.dk. بس آپ کو اپنے Nem-ID سے ویب سائٹ پر لاگ ان کرنا ہو گا

یہ بات صحت اور بزرگوں کی وزارت نے ایک پریس ریلیز میں کہی

آپ ٹیسٹ کے لئے وقت حاصل  کرسکتے ہیں چاہے آپ میں علامات ہوں یا نہیں. وقت حاصل کر لینے کے بعد یہ ٹیسٹ سفید خیموں میں سے ایک خیمے میں لیا جائے گا جو پورے ملک میں اس مقصد کے لیے کھڑے کیے گئے ہیں

تاہم وزیر صحت کا کہنا ہے کہ کرونا ٹیسٹ منفی آنے کا یہ مطلب نہیں کہ فاصلے اور حفظان صحت کی ہدایات کو خاطر میں نہ لایا جائے. کرونا ٹیسٹ سو فیصد قابل اعتماد نہیں ہے اور ایسے مواقع بھی آ سکتے ہیں جہاں آپ کرونا سے متاثر ہوں مگر ٹیسٹ میں وہ دکھائی نا دے-

مزید معلومات یہاں حاصل کریں https://www.dr.dk/nyheder/indland/nu-kan-alle-danskere-blive-coronatestet

Støt Mino Danmarks arbejde.


حکومت ٹیسٹ اور انفکشن کا پتہ لگانے کے لئے نئی جارحانہ حکمت عملی پیش کرتی ہے

وزیر اعظم کے دفتر میں١٢ مئی ٢٠٢٠ کی پریس کانفرنس کے منٹ

ڈنمارک نے حال ہی میں کوویڈ-١٩ کے بڑے پیمانے پر ٹیسٹ شروع کیے ہیں اور اس وقت دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جس میں باشندوں کی تعداد کی بنیاد پر زیادہ تر افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں. لیکن ہمیں اور بھی بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر انفیکشن دوبارہ سے سر اٹھاتا ہے تو ہمیں بروقت تدارک کرنا چاہیے،لہٰذا مؤثر  طور پر انفیکشن کا پتہ لگانا ضروری ہے

بیماروں کو قرنطینہ میں رکھنا ایک ضرورت ہے تاکہ ہم ڈنمارک کو دوبارہ بند کیے بغیر انفیکشن کی اس لڑی کو توڑ سکیں. اسی کے ساتھ ہمیں یہ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ معمر اور کمزور افراد بھی آزادی کے ساتھ معمولات زندگی کو انجام دے سکیں تاکہ وہ اپنے خاندان، خاص طور پر بچوں اور پوتے پوتیوں کو دوبارہ سے مل سکیں

مؤثر طریقے سے انفیکشن کی نشاندہی کرنے کی نئی حکمت عملی میں شامل ہے: جب کسی شخص میں انفکشن پایا جاتا ہے تو حکام اس ہفتے اس بات کا پتہ لگانا شروع کریں گے کہ متاثرہ شخص کے ساتھ کس کس کا رابطہ رہا ہے۔ وائرس کے آگے پھیلاؤ سے پہلے پہلے ان لوگوں کا جلدی سے ٹیسٹ کر کے قرنطینہ میں ڈالا جائے گا. حکومت ایک ہاٹ لائن قائم کر رہی ہے جس پر متاثرہ فرد اپنے رابطہ کاروں کا پتہ لگا سکے گا اور یقینی بناۓ گا کہ انفیکشن کی لڑی کو روکا جا سکے

مزید برآں حکومت بلدیات کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں کے لیے قرنطینہ سینٹر بناۓ گی جو خود کو اپنے گھروں میں الگ تھلگ نہیں رکھ سکتے

Støt Mino Danmarks arbejde.


ڈينش سیفٹی ایجنسی نے گھر پر بنے ماسک سے خبردار کیا ہے

کچھ لوگوں نے ماسک کی سلائی یا بنائی شروع کر دی ہے. مگر سیفٹی ایجنسی نے متنبہ کیا ہے کہ گھر میں بنے یا سیئے ماسک تحفظ کا غلط تاثر دیتے ہیں

تحفظ کا غلط تاثر یہ ہے کہ آپ سمجھتے ہیں آپ محفوظ ہیں اور اسی وجہ سے آپ ہاتھوں کی دھلائی یا فاصلہ رکھنے میں بے احتیاطی کر جاتے ہیں. مگر گھر میں بنے ماسک ضروری نہیں کہ آپ کو بیماریوں، جیسے کوویڈ-١٩، سے بچائیں گے کیونکہ وائرس کے چھوٹے ذرات پھر بھی اندر سرایت کر سکتے ہیں

حفاظتی لباس، جیسے ماسک وغیرہ، کو بیماری کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر تکنیکی ضروریات کو پورا کرنا لازمی ہے۔ ایک صارف کے طور پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آیا ماسک پر سی ای (CE) کا نشان ہے یا نہیں، جو کہ حفاظتی لباس کے لیے استعمال ہوتا ہے

گھر میں بنے حفاظتی لباس، جو تقاضے پورے نہ کرے، کی فروخت غیر قانونی ہے

قومی سیفٹی ایجنسی اس بات پر زور دیتی ہے کہ عوام قومی وزارت صحت کے مشوروں پر عمل کریں جن میں فاصلہ رکھنا اور صفائی کا خیال رکھنا کوویڈ-١٩ سے بچاؤ کے لیے بنیادی اقدام ہیں

:مزید ملاحظہ کریں

https://www.sik.dk/erhverv/produkter/personlige-vaernemidler/vejledninger-forbindelse-corona-covid-19/hjemmestrikkede-masker-giver-formentlig-ikke-beskyttelse#

:اور یہاں

https://www.dr.dk/nyheder/indland/styrelse-hjemmestrikkede-og-hjemmesyede-masker-giver-falsk-beskyttelse

Støt Mino Danmarks arbejde.


ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے کا دوسرا مرحلہ اب شروع ہو رہا ہے

وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کی ٧ مئی کو کی گئی پریس کانفرنس کے منٹ

ڈنمارک کے لوگوں نے دوسروں سے فاصلہ اختیار کرنے، حفظان صحت، وغیرہ پر حکام کی ہدایات پر اچھی طرح عمل کیا. لہٰذا اب ڈنمارک کو بتدریج کھولنے کے عمل کو جاری رکھا جا رہا ہے. تاہم حکام کی طرف سے جسمانی فاصلہ اور حفظان صحت سے متعلق ہدایات پر عمل ویسے ہی جاری رہے گا. اور ڈنمارک کے دوبارہ کامیاب کھولنے کے عمل کے لیے ضروری ہے کہ ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے.

معلوم ہدایات پر عمل کرنے کے علاوہ ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے کا انحصار جارحانہ ٹیسٹنگ کی حکمت عملی پر ہے. اب زیادہ توجہ ٹیسٹ کرنے پر دی جا رہی ہے خواہ علامات نرم ہوں. انفیکشن کی نشاندہی اور متاثرہ فرد کو الگ تھلگ کرنے پر بھی توجہ ہے. مزید برآں، آبادی میں نمائندہ ٹیسٹنگ کروائی جا رہی ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ شہریوں کو ٹیسٹ کروانے کے لیے بلایا جائے گا خواہ ان میں انفیکشن کی علامات ہوں یا نہ ہوں.

ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے کے دوسرے مرحلے میں شامل ہیں:

  • خوردونوش کی اشیاء کے کاروبار کا دوبارہ آغاز، جن میں بڑے مراکز بھی شامل ہیں (١١ مئی سے)
  • ریسٹورنٹ، کیفے، وغیرہ جسمانی فاصلے کی مخصوص ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کاروبار کر سکتے ہیں (١٨ مئی سے)
  • چھٹی سے دسویں کلاس کے طلباء دوبارہ اسکول جا سکتے ہیں (١٨ مئی سے)
  • اکثر پرائیویٹ کمپنیاں ملازمین کے لیے جگہ کھول سکتی ہیں
  • پیشہ ورانہ کھیلوں کا انعقاد شائقین کے بغیر کیا جا سکتا ہے
  • مستعار کتب کے لیے کتب خانے کھول دئیے جائیں گے (١٨ مئی سے)
  • خارجی کھیلوں اور ایسوسی ایشن کا دوبارہ آغاز کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اسے صحت کے نقطۂ نظر سے مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے.
  • عوامی چرچ اور مذہبی برادری دوبارہ اکٹھی ہو سکتی ہے اگر وہ صحت کے نقطۂ نظر کو ملحوظ خاطر رکھیں (١٨ مئی سے)

عارضی بارڈر کنٹرول کب ختم ہوگا اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا. حکومت اس بارے میں یکم جون ٢٠٢٠ کو اعلان کرے گی.

اگر دوبارہ کھولنے کی وجہ سے کرونا وائرس کی وبا اوپر جاتی ہے تو دوبارہ کھولنے کی رفتار کو پھر سے آھستہ کرنا پڑے گا. صحت کے نظام کو بلا تعطل کام کرتے رہنا چاہیے اور اس کے لیے آپ کو چاہیے کہ کچھ ماہ تک ایک دوسرے کا خیال رکھیں.

مزید پڑھیں https://www.regeringen.dk/nyheder/2020/pressemoede-om-genaabning-af-danmark-fase-2/

Støt Mino Danmarks arbejde.


قومی محکمہ صحت نے “خطرہ گروپ” کی تعریف بدل دی ہے.

کوویڈ-١٩ سے جڑے خطرہ گروپوں کے ایک وسیع تعارف کے بعد قومی محکمۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ کون کون سے گروپوں کو کرونا وائرس کے انفیکشن کے پیش نظر بیماری کے سنگین خطرات لاحق ہیں.

اب خطرے کے ٧ گروپ ہیں: 

١– زیادہ عمر کے افراد – ان کی عمومی صحت پر منحصر ہے.

وائرس کے اب تک کے تجربہ سے پتا چلا ہے کہ ٧٠ سال سے زائد کے افراد اور خاص طور پر ٨٠ سال سے زیادہ عمر کے بزرگ سنگین بیماری کے مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں. ٦٥ سال یا اس سے کم کے ان افراد کو خاص خطرہ ہے جن میں ایک یا ایک سے زائد دائمی بیماری پائی جائیں.

٦٥ سال سے زیادہ عمر کے افراد کو خاص طور پر خطرے میں نہیں سمجھا جاتا اگر وہ صحت مند اور ٹھیک اور جسمانی طور پر سرگرم ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ صحتمند بزرگ افراد اپنے صحتمند پوتے/پوتیوں/نواسے/نواسیوں کو دیکھ اور گلے مل سکتے ہیں.

٢– نرسنگ ہوم میں رہنے والے

نرسنگ ہوم میں رہنے والے اکثر بوڑھے ہوتے ہیں، دائمی بیماریوں سے لڑتے ہیں، اور ان کے کام کرنے اور کسی بھی سرگرمی کو انجام دینے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے. یہ سب بڑھتے ہوئے خطرہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

٣-  زیادہ وزن والے افراد

دائمی بیماریوں، جیسے ذیابیطس یا امراض قلب کو موٹاپے سے جوڑا جاتا ہے. خاص طور پر وہ لوگ جن کا باڈی ماس انڈیکس ٣٥ سے اوپر ہو یا وہ لوگ جن کا باڈی ماس انڈیکس ٣٠ سے اوپر ہو اور کوئی دائمی بیماری لاحق ہو تو ایسے لوگوں کو کوویڈ -١٩ کے انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے.

٤- بعض مخصوص بیماریوں کے شکار افراد

ہر دائمی بیماری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مخصوص خطرہ گروپ میں ہیں، خاص طور پر اگر اس بیماری کا ٹھیک سے علاج کیا جا رہا ہو. آپ درج ذیل ویب سائٹ پر جا کر ان بیماریوں کی فہرست کا مطالعہ کر سکتے ہیں جو کرونا وائرس/کوویڈ-١٩ سے متأثر ہونے پر بیماری کی شدت میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں:

https://www.sst.dk/da/Udgivelser/2020/Personer-med-oeget-risiko-ved-COVID-19

٥- دائمی بیماریوں میں مبتلا مخصوص بچے

دائمی بیماریوں میں مبتلا مخصوص بچوں میں کوویڈ-١٩ وائرس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے. کرونا وائرس کے قطع نظر یہ وہ بچے ہیں جن کے لیے اسکول میں یا دیکھ بھال کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں. یہ بچے اور ان کے خاندان اپنے عام علاج کے مقام پر انفرادی مشاورت حاصل کرتے رہیں گے.

٦-  مستقل رہائش کے بغیر افراد

وہ افراد جن کے پاس مستقل رہائش نہیں ان کو اچھی طرح سے حفظان صحت برقرار رکھنے یا دوسروں سے جسمانی فاصلہ رکھنے کا بہت کم موقع ملتا ہے۔ اس سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مستقل رہائش کے بغیر بہت سےافراد دائمی بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں۔ یہ امتزاج ان لوگوں کو خاص طور پر بیماری کے سنگین خطرہ سے دو چار کر سکتا ہے.  

٧- حاملہ خواتین

یہ اصول ابھی بھی حفاظتی تدبیر کے طور پر رائج ہے کیونکہ حاملہ خواتین عام طور پر انفیکشن کے لیے زیادہ حسّاس ہو سکتی ہیں. ابھی تک ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی ہے جس میں حاملہ یا نومولود میں کرونا وائرس کے انفیکشن کے امکان باقی آبادی کی نسبت زیادہ ہوں. تاہم وہ حاملہ خواتین جو کہ ہسپتال میں کوویڈ-١٩ کی وجہ سے داخل ہوتی ہیں، ان کی تیسری سہ ماہی میں وقت سے پہلے بڑے آپریشن کے ذریعے ولادت کر دی جاتی ہے. اس کے بعد ماں اور بچے میں معمول کے خطرات موجود رہتے ہیں.

https://www.sst.dk/da/corona/Saerlige-risikogrupper

Støt Mino Danmarks arbejde.


اب منتخب شدہ خطرہ گروپ نمونوکوکل کے خلاف ٹیکے لگوا سکتے ہیں

کوویڈ ١٩ انفیکشن کی وجہ سے سنگین بیماری کے سنگین خطرہ میں مبتلا افراد مفت نمونوکوکل ویکسینیشن حاصل کرنے کے لئے اپنے ہی معالج سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

یہ ٹیکے خاص طور پر خطرہ گروپ والوں کے لیے ہیں جن میں شدید انفیکشن کے خطرے کو کم کرنا ہے اور جو کرونا وائرس یعنی کوویڈ-١٩ کے خطرے سے بھی دوچار ہوں.

خطرہ گروپ کوپیش کیے جانے والے ٹیکے کرونا وائرس یعنی کوویڈ-١٩ کے خلاف ٹیکے نہیں ہیں. یہ ایک خاص قسم کے بیکٹیریا، جسے نومونو کوکل بیکٹیریا کہا جاتا ہے، کے خلاف ٹیکہ ہے جس کا اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ بد ترین شکل اختیار کر کے دوسری بیماریاں پھیلا سکتا ہے جس میں خون میں زہر آلودگی اور نمونیا شامل ہیں

کچھ لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے جس کی وجہ یا تو ان کی عمر ہے یا اس وجہ سے کہ انھیں کوئی اور بیماری لاحق ہو۔ یہ ٹیکے ان لوگوں کو پہلے فراہم کیے جائیں گے جو نرسنگ ہوم میں رہتے ہوں، ٦٥ سال سے زیادہ کے بزرگ جو دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ٦٥ سال سے کم کے وہ افراد جو بیمار ہونے کے خطرے سے دوچار ہوں

یہ جاننے کے لیے آیا آپ خطرہ گروپ میں ہیں اور مفت ٹیکہ حاصل کر سکتے ہیں، تو یہاں پڑھیں: https://www.sst.dk/da/Viden/Vaccination/

ٹیکوں کے متعلق مزید معلومات آپ یہاں حاصل کر سکتے ہیں: https://www.sst.dk/da

Støt Mino Danmarks arbejde.


وزیر صحت اور صحت کے حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کے منٹ – ٢٠ اپریل ٢٠٢٠

ہم ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے کے ابتدائی مراحل میں ہیں. یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم نے ڈنمارک میں وبا پر قابو پا لیا ہے۔ دوبارہ کھلنے کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ اس لیے دوبارہ کھولنا بہت سے لوگوں کے ٹیسٹ سے مشروط ہے. جبکہ ہمیں ابھی بھی ان ہدایات پر عمل پیرا ہونا چاہیے جن کے بارے میں ہم اب جان چکے ہیں جیسے کہ ہاتھوں کو دھونا، کھانسی یا چھینک کی صورت میں آستین کا استعمال کرنا، جسمانی رابطہ کو محدود رکھنا، بیماری کی صورت میں گھر پر رہنا اور ان مقامات پر خبردار رہنا جہاں بہت سے لوگ جمع ہوں 

زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کے لیے بہت زیادہ محنت کی گئی ہے اور یہ ٹیسٹ اب دستیاب ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے لوگوں میں بھی علامات پائی جائیں ان کا ٹیسٹ کیا جائے. خاص طور پراگر آپ میں درج ذیل میں سے ایک یا ایک سے زیادہ علامات ہیں: خشک کھانسی ، بخار ، یا سانس لینے میں دشواری ، تو آپ کا کرونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے. آپ اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں. اگر آپ اوقات کار کے علاوہ رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر موقع پر موجود ڈاکٹر سے رابطہ کریں. اور آپ کا ٹیسٹ جلد از جلد کر دیا جائے گا. کرونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے کے لیے یہ سب سے مؤثر طریقہ ہے

یہ ایک تشویش کی بات ہے کہ بہت ہی کم لوگوں نے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کیا ہے. ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ان کی طبیعت خراب ہے یا بیماری کی علامات پائی جاتی ہیں تو وہ جلد از جلد اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں، خواہ وہ بیماری کرونا وائرس کے سبب ہو یا نا ہو

ٹیسٹ کے بارے میں عام معلومات:

آپ کا ٹیسٹ منہ یا ناک میں پوچا لگا کر کیا جاتا ہے. اگر آپ ہسپتال میں داخل ہیں اور یہ ٹیسٹ نہیں کیا جا سکتا تو ناک میں ایک نلکی کےذریعے آپ کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے. ٹیسٹ مختلف عوامل پر منحصر ہے اور متعدد بار ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں

Støt Mino Danmarks arbejde.


وزیر اعظم کے دفتر میں ١٤ اپریل کی پریس کانفرنس کے منٹ

ڈنمارک میں کرونا وائرس سے متعلق پیشرفت پر کچھ خوش ہونا چاہیے. اعداد و شمار ایک سطح پر ہیں بلکہ توقع سے بہتر ہیں. اسی لیے توقع کے برعکس ڈنمارک کو تھوڑا سا اور کھولا جا سکتا ہے. ہم دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی مذاکرات میں یہ نقطہ اٹھائیں گے کہ مزید کیا کچھ کھولا جا سکتا ہے مثلاً کون سے روزگار (کمپنیاں) کھولے جائیں. 

کرونا وائرس سے متأثر ہسپتال میں داخل اور انتہائی نگہداشت کے مریضوں میں کمی آئ ہے. ایک دوسرے سے دوری رکھنے کے عمل سے بہت فائدہ ہوا ہے اور ہم سب کو یہ عمل جاری رکھنا چاہیے. ہمارے لیے یہ ایک مشکل موقع رہا ہے کہ ڈنمارک کو اتنے عرصے کے لیے بند کر دیا گیا لیکن دوسرے بہت سے ممالک ڈنمارک سے بھی برے حالات میں ہیں.

اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے ابھی ٣٨٠ لوگ ہسپتالوں میں، ٩٣ انتہائی نگہداشت میں جبکہ ٢٩٩ جان کی بازی ہار چکے ہیں. ڈنمارک میں کرونا وائرس ابھی قابو میں ہے اور صحت کا شعبہ حالات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے.

  • صحت کے شعبے میں کچھ حصوں کو کھولنے کی تیاریاں جاری ہیں جن کے تحت ڈاکٹر اپنے مریضوں کو دیکھ سکیں گے اور ہسپتال لائحہ عمل کے مطابق کام کریں گے. سب سے زیادہ مستحق مریضوں کو ترجیح دی جائے گی. سب کو یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اگر بیماری یا بیماری کی علامات ہوں اور معائنہ کی ضرورت پیش آئے تو اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں.
  • صحت کے حکام کی سفارشات کی روشنی میں تمام بلدیات ڈے کیئر اداروں ، ڈے کیئر سنٹرز اور اسکول کھولنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بچوں کے لیے اب ماحول تھوڑا مختلف ہو گا کیونکہ بچوں کے درمیان لمبا فاصلہ رکھا جائے گا، زیادہ تر باہر رہا جائے گا اور چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کھیل کود ہو گا.
  • کل بروز بدھ ١٥ اپریل ٦٧ بلدیات ڈے کیئر جبکہ ٤٨ بلدیات زیرو سے پانچویں کے بچوں کااسکول کھول دیں گے. دوسرے تمام ڈے کیئر  اور اسکول ٢٠ اپریل کو کھلیں گے۔

ہمیں دوسروں سے فاصلہ رکھنے کا عمل مسلسل جاری رکھنا چاہیے اور اپنے ارد گرد کے بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے. ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ انفیکشن زیادہ تیزی اور بڑے رقبے میں نہ پھیلے.

Støt Mino Danmarks arbejde.


وزیر اعظم کے دفتر میں ٦ اپریل کی پریس کانفرنس کے منٹ – بوقت رات آٹھ بجے

وباء کا گراف مستحکم ہے اور تعداد بھی – ٥٠٣ مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں، ١٣٩ کی حالت تشویشناک اور بدقسمتی سے ١٨٧ چل بسے.

وزیر اعظم نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ وائرس کسی کو متاثر کرنے کے لیے تین سے چار ہفتوں کا وقت لیتا ہے اور یہ بہت تشویش کی بات بھی ہے کیونکہ کچھ لوگ اس کو ہلکا لے رہے ہیں جیسے کہ وہ ایسٹر کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں.

اسی بنا پر وزیر اعظم ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے کے پہلے مرحلے کا منصوبہ پیش کر رہی ہیں، اس منصوبے کے سارے نکات اس بات سے مشروط ہیں کہ ہر شخص ذمےداری کا مظاہرہ کرے گا اور حکام کی سفارشات پر عمل پیرا ہو گا. جیسے کہ: ہاتھ دھونا، دوسروں سے فاصلہ رکھنا اور اجتماع سے گریز کرنا.

ابتدائی مرحلے میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں: 

  • صحت کے مراکز اب کرونا کے علاوہ دوسری سرگرمیوں کے لیے بھی کھلیں گے.
  • نرسری، کنڈر گارٹن، تفریحی انتظامات اور بچوں کی پہلی سے پانچویں تک کی کلاسیں کھل جائیں گی.
    • ان اداروں میں صحت کی دیکھ بھال کےلیے کئی نئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ یہ ادارے اس وقت کھلیں گے جب سب انتظامات مکمّل ہو جائیں.
  • اگر صحت ٹھیک ہو تو نجی اداروں کے ملازمین کو کام دوبارہ شروع کرنا چاہیے.

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سب صرف اس شرط پر منحصر ہے کہ بیماری کا گراف مستحکم رہے. یہ ہم سب کی ذمےداری ہے کہ اس استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے حکام کی سفارشات پر عمل کیا جائے.

اس کے علاوہ دیگر اقدامات میں دس مئی تک چار ہفتوں کی توسیع ضروری ہے. جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  • سرحدوں کی بندش
  • دس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی
  • سفارشات پر سختی سے عمل درآمد
  • اعلی تعلیمی ادارے ، لائبریریاں ، سینما گھر ، مال ، کیفے بند رہیں گے. 
  • چھوٹے ذاتی کاروبار جیسے حجام، ٹیٹو آرٹسٹ اور ان جیسے دیگر کاروبار کی بندش میں توسیع کی جا رہی ہے.

وزیر اعظم سب کو صبر اور افہام و تفہیم کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ زندگی اب پہلی جیسی نہیں ہے – ہمارے معاشرے میں روزمرہ کی زندگی کو معمول پر واپس آنے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں.

اس کے علاوہ وہ متعدد مخصوص امور کا اعلان کرتی  ہیں۔

  • چھٹی سے دسویں کلاس کے طلباء گھر سے ہی تعلیم حاصل کریں گے، لیکن امتحانات منسوخ ہوں گے اور اس کے بدلے سالانہ گریڈ دیے جائیں گے.
  • ثانوی تعلیم مکمل کرنے والے طلبا کو مختلف اور محدود انداز میں امتحانات میں بیٹھنا ہو گا۔
  • گرمیوں میں تہوار ، بازار اور دیگر بڑے اجتماعات منعقد نہیں کیے جا سکیں گے – بڑے اجتماعات پر پابندی اگست تک برقرار رکھی جائے گی.
  • حکومت اور پارلیمانی جماعتیں اس بات پر غور کریں گی کہ آیا امدادی پیکج کو بہتر بنایا جا سکتا ہے.

مزید برآں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہمیں برادری کی روح کو برقرار رکھنا چاہیے. انہوں نے یہ بات خاص طور پر بینکوں اور بڑی رینٹل کمپنیوں سے کہی اور کہا کہ وہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں. انہوں نے شہریوں سے بھی کہا کہ وہ اپنے مقامی  اور چھوٹے کاروبای طبقے کی مدد کریں.

جہاں تک صحت کی سہولیات کا تعلق ہے تو وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ لوگوں میں کرونا وائرس کا پتا لگانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کیے جائیں گے. خاص طور پر صحت کے شعبے سے منسلک عملہ کو مناسب آلات بہم پہنچاۓ جائیں، جہاں کام کا زیادہ دباؤ ہے.

آخر میں وزیر اعظم نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر فرد کا فرض ہے وہ ان حالات میں اپنا کردار نبھاۓ. اور یہ ایک بنیادی شرط بھی ہے تاکہ ڈنمارک  آھستہ آھستہ اپنی روز مرہ زندگی کی طرف واپسی کا سفر شروع کرے.

Støt Mino Danmarks arbejde.


عنوان: 30/3/ 2020 کو وزیر اعظم کے دفتر میں پریس کانفرنس کے منٹ

وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ ڈنمارک کے اٹھاۓ گئے اقدامات کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ ہم بہتری کی راہ پر گامزن ہیں.  اور اعلان کیا کہ ایسٹر کے بعد ڈنمارک میں کاروبار زندگی آھستہ آھستہ شروع کیا جا سکتا ہے.  تاہم بہتری کا عمل ایسے ہی جاری رہنا چاہیے جیسے کہ اب ہے – مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ لیے گئے اقدامات میں نرمی برتنا شروع کر دیا جائے.  یہی وقت ہے جب ہمیں مضبوط رہنا ہے، فاصلہ رکھنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم حکام کے وضع کردہ ہدایات پر عمل پیرا ہوں.  یہ ڈنمارک کو ایسٹر کے بعد بتدریج دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم بنیادی شرط ہے, ورنہ مزید سخت اقدامات لینے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے.

وبا ابھی انتہا تک نہیں پہنچی؛ ہمیں زیادہ بیماروں، زیادہ بیماروں کا ہسپتال میں رہنا اور زیادہ اموات کے لیے تیار رہنا چاہیے. اگر چہ یہ بات متضاد لگتی ہے کہ ہم ڈنمارک کو دوبارہ کھول دیں جب کہ لوگ مر رہے ہوں,  مگر اس کا مقصد ہو گا کہ وبا بھی قابو میں رہے. اسی سلسلے میں وزیر اعظم آئندہ ہفتے پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کے ساتھ ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے پر تبادلہ خیال کریں گی اور ہفتے کے آخر میں اس کے لیے اپنا لائحہ عمل بھی پیش کریں گی.

مزید برآں وزیرا عظم کے دفتر سے بوڑھوں اور کمزوروں کے لیے پیغام ہے.  وہ توقع کرتی ہیں کہ انفیکشن کے خطرے کے پیش نظر یہ اشخاص اپنی زندگی کو (حفاظتی اقدامات کے زریعے) منظم رکھیں گے.  یہ ہے تو مشکل مگر خلاف قیاس اس وقت سب سے کمزور کو سب سے مضبوط بننا پڑے گا.

تاہم وہ کہتی ہیں کہ مستقبل قریب میں بہتری کی امید ہے.  جیسا کہ ابھی لگ رہا ہے کہ ہم بیماری کی شرح کو ایک ہی سطح پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں –  صورتحال ابھی بھی نازک ہے اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے.  اگرچہ انفیکشن کا پھیلاؤ ابھی قابو میں ہے مگر وبا ابھی بھی موجود ہے.

Støt Mino Danmarks arbejde.


نیشنل ہیلتھ سروس کی درخواست: اپنے آپ کو اور دوسروں کو کورونا وائرس سے بچائیں

آپ کو کورونا کے بارے میں کیا جاننے کی ضرورت ہے

اس وقت ہم ایک سنگین وبا کی زد میں ہیں۔ انفیکشن پھیلنے کے خطرے کو کم سے کم کرنا ضروری ہے۔ لہذا نیشنل ہیلتھ سروس آپ سے درخواست کرتا ہے کہ ان ہدایت پر عمل کریں

اگر آپ صحتمند ہیں:

غیر ضروری رابطے سے گریز کریں اور دوسروں کو بھی احتیاط کا مشورہ دیں –

اگر آپ کسی ایسے شخص کے قریب رہے ہیں جس میں کرونا وائرس کے  انفیکشن کی علامات ہیں تو اپنی علامات پر زیادہ نظر رکھیں

اپنے پیاروں کا خیال رکھیں . خاص طور پر  اگر وہ کمزور ہیں تو فاصلے سے ان کی مدد کریں –

اگر آپ میں بیماری کی علامات ہیں:

– ٢ ہفتے تک گھر پر ہی رہیں جب تک علامات ختم نہیں ہو جاتیں

گھر میں دوسروں سے دور رہیں اور کوشش کریں بستر میں ہی لیٹے رہیں –

ذاتی حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں –

خریداری کے لیے دوسروں سے مدد طلب کریں اور ٹیلی فون پر ہی رابطہ رکھیں –

اگر آپ کی علامات بگڑتی جا رہی ہیں، تیز بخار اور سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں –

دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی حفاظت کریں

Sst.dk/corona

Coronasmitte.dk

Støt Mino Danmarks arbejde.


ڈنمارک کی حکومت نے لاک ڈاؤن کو 13 اپریل تک بڑھا دیا

ڈنمارک کی حکومت نے لاک ڈاؤن کو 13 اپریل تک بڑھا دیا

پریس کانفرنس 23 مارچ 2020 15 بجے

وزیر اعظم  میٹے فریڈرکسن نے کورونا لاک ڈاؤن اور اس سے متعلق ہر چیز کو 13 اپریل تک بڑھا دیا

٢٥٤ افراد اسپتال میں داخل ہیں کیوں کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہیں.  ٥٥ افراد انتہائی نگہداشت وارڈ میں ہیں اور ٢٤ افراد کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں.

حکومت ان تمام اقدامات پر قائم ہے جو اس  نے اب تک اٹھاۓ ہیں. سب سے اہم کام ایک ہی وقت میں بہت سارے لوگوں کو شدید بیمار ہونے سے روکنا ہے. اور اسی کے پیش نظر حکومت اس بندش کو 13 اپریل 2020 تک بڑھا رہی ہے۔

وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے زور دے کر کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم سب رہنما خطوط پر عمل پیرا ہوں اورایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھیں ، اگرچہ کہ ایسٹر کی وجہ سے یہ مشکلات جھیلنی پڑیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ سفر کرنا ترک کر دیں خواہ وہ ڈنمارک کے اندر ہی کیوں نہ ہو.

خطرے میں پڑنے والے خاندانوں کو ہنگامی دیکھ بھال استمعال کرنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ بچوں اور جوانوں کی دیکھ بھال کرنے کی اچھی اہلیت  موجود ہے۔ کئی جگہوں پر کمرے مختص کیے گئے ہیں تاکہ بے گھر افراد کو بھی انفکشن ہونے کی صورت میں ان کا علاج کرایا جاسکے۔

وزیر صحت کا کہنا ہے کہ علاج معالجے کی توسیع اور بہتری کے لئے بہت محنت سے کام ہو رہا ہے۔ جنوبی کوریا سے ٹیسٹ کٹس خریدنے کی پیش کش قبول کرنے کی درخواست کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے۔

آخر میں وزیر صحت نے کہا کہ وہ ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کو قبول کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی بھی طرح مدد کرنا چاہتے ہیں تو آپ ویب سائٹ  Coronasmitte.dk پر جاکر اپنی مدد کی پیش کش کرسکتے ہیں۔ ویب سائٹ پر آپ ’Danmark hjælper Danmark’ کے لنک پر جائیں جہاں آپ کی مدد کی پیشکش کا برق رفتاری سے جائزہ لیا جائے گا.

Støt Mino Danmarks arbejde.


حاملہ خواتین کو کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرانا پڑتا ہے

محکمہ صحت نے حاملہ خواتین کے بارے میں نئے قواعد وضح کیے ہیں

١٩ مارچ کے بیان میں حاملہ خواتین اور ان کے بارے میں کچھ نئے قواعد موجود ہیں  

اگر حاملہ خاتون ہسپتال لائی جائے گی تو اسے کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا جائے گا۔

اگرخاتون کو وائرس تشخیص ہوا ہے تو پھر اسپتال زیادہ محتاط رہے گا اور انہیں ماسک اور دوسرے ضروری آلات کا استعمال کرنا پڑے گا. متاثرہ حاملہ خاتون کو بھی ماسک پہنایا جائے گا. 

اگر مریضہ میں انفکشن ہونےکا شبہ ہو تو ان کا علاج کیا جائے گا جب تک کہ ٹیسٹ کا کوئی نتیجہ نہ مل جائے ۔  

اس کے علاوہ:

بچے کی پیدائش کے وقت عورت کا ساتھی، جو خود وائرس سے متاثر ہے، کو آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی. ایسے ساتھی کو بھی آنے کی اجازت نہیں ہو گی جس کے بارے میں شبہ ہو کہ اسے بھی وائرس کا اثر ہے. 

متاثرہ ساتھی، جس میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہو، کو بچے سے ١٤ دن تک ملنے نہیں دیا جائے گا جب تک وہ صحت مند نہ ہو جائے.

کئی ہسپتالوں نے یہ قدم اٹھایا ہے کہ صرف حاملہ کا ساتھی ہی رشتےدار کے طور پر وہاں موجود ہو گا تاکہ انفیکشن کا خطرہ کم رہے.

اگر ماں کو کورونا وائرس تشخیص ہوا ہے  تو وہ نئے بچے سے الگ نہیں ہوگی۔ یہ تب ہی ہوگا جب ماں کو علاج کی  اشد ضرورت ہو۔  

اگر ماں وائرس سے متاثرہ ہے۔ لیکن اسے کسی علاج کی ضرورت نہیں ہے تو اسے جلد سے جلد گھر بھیج دیا جائے گا۔  ماں کو بچے کی صحت کے بارے میں ہدایات بھی دی جائیں گی۔

ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے مگر یہ ہدایت بھی کی جاتی ہے کہ وہ دودھ پلانے سے پہلے اپنے پستانوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھو لے. اسے یہ بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو گاہے بگاہے دھوتی رہے اور سپرٹ کا استعمال کرے. 

اب بھی تمام اہم اسکین ہوں گے جیسے کہ بطن وغیرہ کا. 

ہوسکتا ہے کہ بچے کو جنم دینے کے انتظامات منسوخ ہوجائیں۔ اور کچھ مشورے دائیاں  فون کے ذریعے بھی دے سکتی ہیں۔ اہم اسکین اب بھی وقت پر دستیاب ہوں گے۔ لیکن یہ اکیلے ماں ہی ہوگی جنھیں صلاح مشورے کرنے کی اجازت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ وائرس نہ پھیلے۔

ہسپتال ہر عورت کو جنم دینے کا اختیار فراہم کرتا ہے ، مگر یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ اگر ہسپتال میں پیدائش کے لیے نہ آ سکیں تو اس بارے  پریشان ہر گز نہ ہوں.

Støt Mino Danmarks arbejde.


تمام لوگوں کے لئے مشورہ

سب کو مشورہ دے رہے ہیں کہ انفلمومیٹر  چیک کریں Statens serum Institut

یہ ایک ایسی ویب سائٹ ہے جہاں آپ حکومت کو رجسٹر کرنے میں مدد کرسکتے ہیں کہ وائرس کیسے پھیل رہا ہے۔

انفلمومیٹر کے ذریعے لوگ ہر ہفتے رپورٹ کرتے ہیں اگر انہیں وائرس کی کوئی علامت محسوس ہوئی ہو۔ اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وائرس کیسے پھیل رہا ہے

ہر شخص انفلمومیٹر کا حصہ بن سکتا ہے۔ بچے ، بڑوں ، بزرگ ، صحتمند اور بیمار۔ آپ اپنا اور اپنے گھر میں رہنے والے لوگوں کی رجسٹریشن کرسکتے ہیں۔

یہاں تک کہ اگر آپ بیمار ہوئے ہوں تو آپ انفولیومیٹر کا حصہ بن سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو بیمار نہیں ہوئے ہیں وہ بھی اس کا ایک حصہ بن سکتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم سب داخل ہوکر اندراج کریں تاکہ ہم تمام معلومات میں مدد کرسکیں

 کا کام ڈنمارک میں بیماریوں کو دیکھنا اور روکنا ہے انفلومیٹر بنانے والے بھی ہیں۔ انہوں نے انفلمومیٹر بنایا تاکہ وہ اس بات پر نظر Afdeling for Infektionsepidemiologi, Statens Serum Institut

 رکھیں کہ کس طرح کورونا وائرس پھیل رہا ہے۔

www.influmeter.dk

Støt Mino Danmarks arbejde.


وزیر اعظم نے یہ کہتے ہوئے پریس کانفرنس کا آغاز کیا کہ اب اسپتال میں 82 افراد داخل ہیں۔ ان میں سے 18 انتہائی نگہداشت یونٹ میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بیماری کو روکنا ہے۔ لہذا وزیر اعظم نے کچھ نئے اقدامات لئے ہیں

17/03/2020 20:29

  1. اب سے ایک جگہ پر 10 افراد کو جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نہ گھر پر اور نہ ہی عوامی مقامات پر۔
  2. دکانوں کو بھی محتاط رہنا ہو گا. دکانوں کے اندر اور باہر لوگوں کے درمیان فاصلہ رکھنا پڑے گا اور ہاتھ دھونے کی سہولیات بھی میسّر ہونی چاہیئیں
  3. ہمیں تمام کھیلوں ، حجاموں ، کلینکوں اور فٹنس مراکز کو بند کرنا ہوگا۔صرف صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو ہی کام کرنا چاہئے
  4. نائٹ کلب ، شیشبار ، پب اور کافی والے مقامات بند ہوجائیں گے۔
  5. تمام شاپنگ مالز بند کردیئے جائیں گے لیکن اشیاء خوردو نوش کی دکانیں ہی کھلی رہیں گی
  6. ریستوراں اور کافی کے مقامات بند کردیئے جائیں گے لیکن ٹیک اوے اب تک دستیاب ہے۔
  7. ڈنمارک کے رہائشی، جو بیرون ملک سے آۓ ہیں، براہ کرم دو ہفتوں کے لیے اپنے گھر پر ہی رہیں
  8. وزراء اور پولیس نے کہا کہ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے اور ہم سب کو محتاط رہنا چاہئے۔ خاص طور پر نوجوانوں کو زیادہ محتاط رہنا چاہئے۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ کو کسی دوست کے انفیکشن میں مبتلا ہونے کا شک ہے تو باہر جانے سے بہتر ہے گھر پر ہی رہیں

اور وزیر اعظم نے محتاط رہنے پر سب کا شکریہ ادا کیا اور ہیلتھ ورکرز کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں کے لئے مدد آ رہی ہے جو کام اور پیسہ کھو رہے ہیں اور حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ وہ اس پر تبادلہ خیال کریں گے کہ مدد کس طرح آئے گی۔

پولیس عوام کی مدد اور رہنمائی کے لئے زیادہ فعال نظر آئے گی

محکمہ خارجہ نے کہا کہ کچھ لوگ دوسرے ممالک میں پھنسے ہیں لیکن حکومت انہیں جلد سے جلد گھر لے آئے گی۔

Støt Mino Danmarks arbejde.


پریس کانفرنس ١٣ مارچ ٧ بجے – وزیر اعظم نے بتایا کہ ڈنمارک میں ٨٠٢ لوگ کرونا سے بیمار ہیں، ٢٣ ہسپتال میں ہے اور ٢ کی حالت خطرے میں ہے۔

13/03/2020 20:23

وزیر اعظم نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف لیے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا

 پہلے تو یہ کہ ہسپتالوں میں غیر ضروری علاج بند کیا جا رہا ہے. مثال کے طور پر ایسے آپریشن یا چیک اپ جس میں جان کا خطرہ نہ ہو، ملتوی کر دیے گئے ہیں

دوسرا یہ کہ وزارت خارجہ لوگوں کو بیرون ملک کا غیر ضروری سفر نا کرنے کا مشورہ دیتی ہے اور جو ڈنمارک سے باہر ہیں ان سے کہتی ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو واپس گھر آ جائیں. مطلب کہ آپ اس وقت بیرون ملک نہ جائیں اور جو چلے گئے ہیں وہ جلد از جلد واپس آ جائیں

تیسرا، اور اب تک کا سب سے سخت قدم یہ ہے کہ کل بروز ہفتہ بتاریخ ١٤ مارچ، دن کے ١٢ بجے سے ڈنمارک اپنی سرحدوں کو ١٤ اپریل تک بند کر دے گا. اس وجہ سے غیر ملکیوں کا ڈنمارک میں داخلہ ممنوع ہو گا خواہ وہ سمندری جہاز کے ذریعے ہو، ہوائی جہاز، ٹرین، بس یا کار کے ذریعے جب تک کہ ان کے پاس اقرار نامہ نہ ہو، جیسے کہ وہ یہاں کام کرتے ہیں اور رہتے ہیں، انھیں اپنے شدید بیمار رشتےدار سے ملنا ہے، یا انھیں ڈنمارک میں رہنے والے اپنے بکجوں تک رسائی چاہیے. سرحدوں کے بند کرنے میں دفاع کا محکمہ پولیس کی مدد کرے گا. حکومت نے اس بات پر زور دے کر کہا ہے کہ کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی چیزوں کی نقل و حمل اس پابندی سے سے مستثنیٰ رہیں گی. اس کے علاوہ ڈنمارک کے شہری ہر وقت واپس آ سکتے ہیں، ان پر کوئی پابندی نہیں ہو گی.

Støt Mino Danmarks arbejde.


Samarbejdspartnere til Mino Danmarks indsats med oversættelse af myndighedernes udmeldinger om covid-19 i Danmark:

Støt minoriteten

Vær med til at skabe flere handlemuligheder for
minoritetsetniske danskere. Tak fordi du vil være med!



Hvert eneste medlemskab og donation styrker Mino Danmarks legitimitet og eksistensberettigelse.

Det gør en forskel og styrker foreningens muligheder for at lykkes med at skabe et lige samfund, uanset etnisk baggrund.

Hvert eneste medlemskab og donation styrker Mino Danmarks legitimitet og eksistensberettigelse.

Det gør en forskel og styrker foreningens muligheder for at lykkes med at skabe et lige samfund, uanset etnisk baggrund.