fbpx

سرحدیں جزوی طور پر کھولی جا رہی ہیں مگر بین الاقوامی سفر کی کوئی تجویز ابھی تک زیر غور نہیں ہے

https://mino.dk/covid19/urdu/#%d8%b3%d8%b1%d8%ad%d8%af%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%b2%d9%88%db%8c-%d8%b7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%da%a9%da%be%d9%88%d9%84%db%8c-%d8%ac%d8%a7-%d8%b1%db%81%db%8c-%db%81%db%8c%da%ba-%d9%85%da%af%d8%b1

سرحدیں جزوی طور پر کھولی جا رہی ہیں مگر بین الاقوامی سفر کی کوئی تجویز ابھی تک زیر غور نہیں ہے

سرحدیں جزوی طور پر کھولی جا رہی ہیں مگر بین الاقوامی سفر کی کوئی تجویز ابھی تک زیر غور نہیں ہے

29/05/2020 / /

جمعہ ٢٩ مئی ٢٠٢٠ کو وزیر اعظم کے دفتر میں پریس کانفرنس کے منٹ

یہ تجویز ہے کہ ٣١ اگست تک تمام بین الاقومی سفر نہ کیے جائیں. ناروے ، آئس لینڈ اور جرمنی کا سفراس سے مستثنیٰ ہے۔

١٥ جون سے ڈنمارک کی سرحدیں ناروے، آئس لینڈ  اور جرمنی سے آنے والے مسافروں کے لیے کھول دی جائیں گی. تاہم ان ممالک سے آنے والے سیاحوں پر متعدد پابندیاں عائد ہوں گی۔ اس میں مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈنمارک میں ٦ راتیں گزاریں گے اور ان میں سے کوئی بھی رات وہ دارالحکومت میں نہیں گزار سکیں گے. سرحدوں پرنمونے کے لیے ٹیسٹ بھی کروائے جائیں گے۔

اگلے اعلان تک سویڈن سے آنے والے مسافروں کے لیے سرحدیں بند رہیں گی. اس فیصلے کا جواز ان مختلف اقدامات پر مبنی ہے جو پڑوسی ملک کورونا سے نمٹنے کے لیے اٹھا رہا ہے

گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سرحدوں پر سے پابندی دوسرے شینگن ممالک کے لیے بھی اٹھاۓ جانے کا امکان ہے

ہم سب کا طرز عمل ہی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ڈنمارک کو دوبارہ کیسے کھولا جائے. یقیناً اس کا اطلاق اس بات پر بھی ہے کہ ہم گرمیوں کی چھٹیوں کا سفر کیسے گزارتے ہیں

اگر آپ دوسرے ممالک کا سفر کرتے ہیں تو آپ کو انفکشن ہونے اور انفیکشن کو گھر لے آنے کا خطرہ ہو سکتا ہے. لہذا یہ سفارش کی جاتی ہے کہ بڑے شہروں میں سفر کرنے سے گریز کریں۔ یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ بطور مسافر ان ممالک کی مقامی پابندیوں سے آگاہ رہئے ۔

صحت کے حکام اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ آپ بیرون ملک قیام کے بعد ١٤ دن کے لیے قرنطینہ میں چلے جائیں ، چاہے یہ سویڈن کا مختصر سفر ہی کیوں نہ ہو۔

Relaterede nyheder

ایپ اسمیٹ | اسٹاپ

10/07/2020
اسمیٹ | اسٹاپ ایک ایسی ایپ ہے جس کی مدد سے ہم سب کو ڈنمارک میں کووڈ- ١٩کے پھیلاؤ کو […] Læs mere… Læs mere…

کووڈ-١٩ کے تناظر میں وزارت خارجہ کی طرف سے نئی سفری ہدایات

08/07/2020
برطانیہ، شنگن / یورپ کے بہت سے ممالک کے لیے سفر کھول دیا گیا ہے جہاں قومی سیرم انسٹیٹیوٹ سمجھتا […] Læs mere… Læs mere…

ڈنمارک کو کھولنا اب تیسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے

08/06/2020
پیر٨ جون ٢٠٢٠ سے ڈنمارک کے مزید حصے دوبارہ کھل جائیں گے۔ اس مرحلے میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:  آرکیڈز […] Læs mere… Læs mere…

اب آپ کرونا ٹیسٹ کروا سکتے ہیں، خواہ آپ میں علامات نہ بھی ہوں

19/05/2020
اب کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے کے لیے آپ کو اپنے مستقل ڈاکٹر سے حوالہ لینا ضروری نہیں ہے. ڈنمارک […] Læs mere… Læs mere…

حکومت ٹیسٹ اور انفکشن کا پتہ لگانے کے لئے نئی جارحانہ حکمت عملی پیش کرتی ہے

13/05/2020
وزیر اعظم کے دفتر میں١٢ مئی ٢٠٢٠ کی پریس کانفرنس کے منٹ ڈنمارک نے حال ہی میں کوویڈ-١٩ کے بڑے […] Læs mere… Læs mere…

ڈينش سیفٹی ایجنسی نے گھر پر بنے ماسک سے خبردار کیا ہے

12/05/2020
کچھ لوگوں نے ماسک کی سلائی یا بنائی شروع کر دی ہے. مگر سیفٹی ایجنسی نے متنبہ کیا ہے کہ […] Læs mere… Læs mere…

ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے کا دوسرا مرحلہ اب شروع ہو رہا ہے

07/05/2020
وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کی ٧ مئی کو کی گئی پریس کانفرنس کے منٹ ڈنمارک کے لوگوں نے دوسروں سے […] Læs mere… Læs mere…

قومی محکمہ صحت نے “خطرہ گروپ” کی تعریف بدل دی ہے.

06/05/2020
کوویڈ-١٩ سے جڑے خطرہ گروپوں کے ایک وسیع تعارف کے بعد قومی محکمۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ کون […] Læs mere… Læs mere…

اب منتخب شدہ خطرہ گروپ نمونوکوکل کے خلاف ٹیکے لگوا سکتے ہیں

04/05/2020
کوویڈ ١٩ انفیکشن کی وجہ سے سنگین بیماری کے سنگین خطرہ میں مبتلا افراد مفت نمونوکوکل ویکسینیشن حاصل کرنے کے […] Læs mere… Læs mere…

وزیر صحت اور صحت کے حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کے منٹ – ٢٠ اپریل ٢٠٢٠

20/04/2020
ہم ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے کے ابتدائی مراحل میں ہیں. یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم نے ڈنمارک […] Læs mere… Læs mere…

Støt minoriteten

Vær med til at skabe flere handlemuligheder for
minoritetsetniske danskere. Tak fordi du vil være med!



Hvert eneste medlemskab og donation styrker Mino Danmarks legitimitet og eksistensberettigelse.

Det gør en forskel og styrker foreningens muligheder for at lykkes med at skabe et lige samfund, uanset etnisk baggrund.

Hvert eneste medlemskab og donation styrker Mino Danmarks legitimitet og eksistensberettigelse.

Det gør en forskel og styrker foreningens muligheder for at lykkes med at skabe et lige samfund, uanset etnisk baggrund.