Notice: Trying to get property 'display_name' of non-object in /var/www/clients/i61006/mino.dk/web/wp-content/plugins/wordpress-seo/src/generators/schema/article.php on line 52

عنوان: 30/3/ 2020 کو وزیر اعظم کے دفتر میں پریس کانفرنس کے منٹ

عنوان: 30/3/ 2020 کو وزیر اعظم کے دفتر میں پریس کانفرنس کے منٹ

30/03/2020 / /

وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ ڈنمارک کے اٹھاۓ گئے اقدامات کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ ہم بہتری کی راہ پر گامزن ہیں.  اور اعلان کیا کہ ایسٹر کے بعد ڈنمارک میں کاروبار زندگی آھستہ آھستہ شروع کیا جا سکتا ہے.  تاہم بہتری کا عمل ایسے ہی جاری رہنا چاہیے جیسے کہ اب ہے – مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ لیے گئے اقدامات میں نرمی برتنا شروع کر دیا جائے.  یہی وقت ہے جب ہمیں مضبوط رہنا ہے، فاصلہ رکھنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم حکام کے وضع کردہ ہدایات پر عمل پیرا ہوں.  یہ ڈنمارک کو ایسٹر کے بعد بتدریج دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم بنیادی شرط ہے, ورنہ مزید سخت اقدامات لینے کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے.

وبا ابھی انتہا تک نہیں پہنچی؛ ہمیں زیادہ بیماروں، زیادہ بیماروں کا ہسپتال میں رہنا اور زیادہ اموات کے لیے تیار رہنا چاہیے. اگر چہ یہ بات متضاد لگتی ہے کہ ہم ڈنمارک کو دوبارہ کھول دیں جب کہ لوگ مر رہے ہوں,  مگر اس کا مقصد ہو گا کہ وبا بھی قابو میں رہے. اسی سلسلے میں وزیر اعظم آئندہ ہفتے پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کے ساتھ ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے پر تبادلہ خیال کریں گی اور ہفتے کے آخر میں اس کے لیے اپنا لائحہ عمل بھی پیش کریں گی.

مزید برآں وزیرا عظم کے دفتر سے بوڑھوں اور کمزوروں کے لیے پیغام ہے.  وہ توقع کرتی ہیں کہ انفیکشن کے خطرے کے پیش نظر یہ اشخاص اپنی زندگی کو (حفاظتی اقدامات کے زریعے) منظم رکھیں گے.  یہ ہے تو مشکل مگر خلاف قیاس اس وقت سب سے کمزور کو سب سے مضبوط بننا پڑے گا.

تاہم وہ کہتی ہیں کہ مستقبل قریب میں بہتری کی امید ہے.  جیسا کہ ابھی لگ رہا ہے کہ ہم بیماری کی شرح کو ایک ہی سطح پر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں –  صورتحال ابھی بھی نازک ہے اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے.  اگرچہ انفیکشن کا پھیلاؤ ابھی قابو میں ہے مگر وبا ابھی بھی موجود ہے.

Relaterede nyheder

ایپ اسمیٹ | اسٹاپ

10/07/2020
اسمیٹ | اسٹاپ ایک ایسی ایپ ہے جس کی مدد سے ہم سب کو ڈنمارک میں کووڈ- ١٩کے پھیلاؤ کو […] Læs mere… Læs mere…

کووڈ-١٩ کے تناظر میں وزارت خارجہ کی طرف سے نئی سفری ہدایات

08/07/2020
برطانیہ، شنگن / یورپ کے بہت سے ممالک کے لیے سفر کھول دیا گیا ہے جہاں قومی سیرم انسٹیٹیوٹ سمجھتا […] Læs mere… Læs mere…

ڈنمارک کو کھولنا اب تیسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے

08/06/2020
پیر٨ جون ٢٠٢٠ سے ڈنمارک کے مزید حصے دوبارہ کھل جائیں گے۔ اس مرحلے میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:  آرکیڈز […] Læs mere… Læs mere…

سرحدیں جزوی طور پر کھولی جا رہی ہیں مگر بین الاقوامی سفر کی کوئی تجویز ابھی تک زیر غور نہیں ہے

29/05/2020
جمعہ ٢٩ مئی ٢٠٢٠ کو وزیر اعظم کے دفتر میں پریس کانفرنس کے منٹ یہ تجویز ہے کہ ٣١ اگست […] Læs mere… Læs mere…

اب آپ کرونا ٹیسٹ کروا سکتے ہیں، خواہ آپ میں علامات نہ بھی ہوں

19/05/2020
اب کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے کے لیے آپ کو اپنے مستقل ڈاکٹر سے حوالہ لینا ضروری نہیں ہے. ڈنمارک […] Læs mere… Læs mere…

حکومت ٹیسٹ اور انفکشن کا پتہ لگانے کے لئے نئی جارحانہ حکمت عملی پیش کرتی ہے

13/05/2020
وزیر اعظم کے دفتر میں١٢ مئی ٢٠٢٠ کی پریس کانفرنس کے منٹ ڈنمارک نے حال ہی میں کوویڈ-١٩ کے بڑے […] Læs mere… Læs mere…

ڈينش سیفٹی ایجنسی نے گھر پر بنے ماسک سے خبردار کیا ہے

12/05/2020
کچھ لوگوں نے ماسک کی سلائی یا بنائی شروع کر دی ہے. مگر سیفٹی ایجنسی نے متنبہ کیا ہے کہ […] Læs mere… Læs mere…

ڈنمارک کو دوبارہ کھولنے کا دوسرا مرحلہ اب شروع ہو رہا ہے

07/05/2020
وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کی ٧ مئی کو کی گئی پریس کانفرنس کے منٹ ڈنمارک کے لوگوں نے دوسروں سے […] Læs mere… Læs mere…

قومی محکمہ صحت نے “خطرہ گروپ” کی تعریف بدل دی ہے.

06/05/2020
کوویڈ-١٩ سے جڑے خطرہ گروپوں کے ایک وسیع تعارف کے بعد قومی محکمۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ کون […] Læs mere… Læs mere…

اب منتخب شدہ خطرہ گروپ نمونوکوکل کے خلاف ٹیکے لگوا سکتے ہیں

04/05/2020
کوویڈ ١٩ انفیکشن کی وجہ سے سنگین بیماری کے سنگین خطرہ میں مبتلا افراد مفت نمونوکوکل ویکسینیشن حاصل کرنے کے […] Læs mere… Læs mere…

Vær med til at sikre
et ligeværdigt Danmark
– for alle!

Sammen styrker vi minoritetsetniske danskeres
muligheder, stemmer og samfundsdeltagelse



Hvert eneste medlemskab og donation styrker Mino Danmarks legitimitet og eksistensberettigelse.

Det gør en forskel og styrker foreningens muligheder for at lykkes med at skabe et lige samfund, uanset etnisk baggrund.

Hvert eneste medlemskab og donation styrker Mino Danmarks legitimitet og eksistensberettigelse.

Det gør en forskel og styrker foreningens muligheder for at lykkes med at skabe et lige samfund, uanset etnisk baggrund.